Shirk is the greatest nullifier of Islaam 

Shirk is the greatest nullifier of Islaam – Shaykh Saaleh bin Sa’ad As-Suhaimee
شرک نواقض اسلام میں سے سب سے بڑا ناقض ہے – شیخ صالح بن سعد السحیمی
شیخ صالح السحیمی حفظہ اللہ فرماتے ہیں:
نواقض اسلام میں سے سب سے بڑا اور سب سے خطرناک ناقض اللہ  تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا ہے، کیوں کہ ایمان کے رکن میں سے ایک رکن اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص اپنانا ہے۔ پس جس نے بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا اس نے کیا چیز کھو دی ؟ اس نے اخلاص کو کھو دیا، بلکہ توحید کو ہی کلیۃً کھو دیا۔۔۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا  وہ سب سے بڑا وہ گناہ ہے کہ  جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جاتی ہے۔ اور ایسا کیوں نہ ہو یہ تو اللہ تعالیٰ کا حق ہے جو لے کر یا چھین کر نعوذ باللہ غیر کو دے دیا گیا۔
شرک آج کے اس دور میں  بالکل منتشر اورعام ہے اور یہ سب سے عظیم ترین منکر ہے اورکتنی عجیب بات ہے کہ یہ جو خوارج کلاب النار ہیں  یہ دعوی کرتے ہيں کہ ہم منکرات کا نکیر کرتے ہيں اور منکرات پر انکار کرتے ہیں،  اوربلاشبہ واجب ہے کہ منکرات پر انکار کیا جائے لیکن  ان شرعی طریقوں سے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیان فرمائے ہیں ،لیکن یہ (خوارج) کسی  پر اس شرک اکبر کا رد نہیں کرتے۔ چنانچہ ان کے جو بڑے بڑے لیڈران ہیں جو ان کو اس قسم کے گمراہ کن فتاوی کی تعلیم دیتے پھرتے ہیں، آپ ان کو قبروں کے طواف، مزاروں اور جو اس میں دفن فوت شدگان ہیں ان کے لیے ذبح کرنے، ان کے نام کی نذر و نیاز دینے کی تائید کرتے ہوئے پائیں گے، اس سے کسی کے سکونِ دل میں نہ کوئی جنبش ہوتی ہے نہ وہ ٹس سے مس ہوتا ہے۔ اور دوسری طرف آپ ان کو  دیکھیں گے کہ باقاعدہ لشکر اور گروہ  بنا لیا ہے انہوں نے  اس مملکت کے خلاف گویا کہ  اس سطح ارضی پر (پوری دنیا میں) اس ملک کے علاوہ کوئی ان کو دشمن ہی نہیں ہے۔ یہ مملکت سعودی عرب جسے اللہ تعالیٰ  کی اللہ تعالی نے حفاظت  فرمائی ہے کیونکہ یہ اس کی توحید اور توحید کی سرحدوں کی حفاظت  کرتی ہے۔  فلا حول ولا قوة إلا بالله ( نہیں ہے نیکی کرنے کی اور برائی سے بچنے کی طاقت سوائے اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے توفیق سے)۔
تفصیل کے لیے مکمل مقالہ پڑھیں
http://tawheedekhaalis.com/wp-content/uploads/2016/02/shirk_sub_say_bada_naqid.pdf
‼‼‼‼‼‼‼‼‼‼‼‼‼‼

tawheedekhaalis.com:

[Urdu Article] Answer to those who call Salafees Madkhalees and Jaamees – Various ‘Ulamaa
ان لوگوں کا رد جو سلفیوں کو مدخلیہ اور جامیہ کہتے ہیں   
مختلف علماء کرام
ترجمہ وترتیب: طارق علی بروہی
مصدر: ویب سائٹس سحاب السلفیۃ، الآجری ڈاٹ کام وغیرہ
پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام
بسم اللہ الرحمن الرحیم
بسم الله، والصلاة والسلام على رسول الله ، وآله وصحبه ومن والاه.
شیخ ربیع المدخلی حفظہ اللہ سے سوال ہوا:
سائل:  شیخنا(رعاکم اللہ)، آپ ان لوگوں کے بارے میں کیا کہیں گے جو جرمنی اور اس کے علاوہ ممالک میں بھی سلفیوں پر مدخلیہ! یا مداخلہ !ہونے کی تہمت لگاتےہیں، اور یہ کہ انہوں نے امت میں تفرقہ ڈال دیا ہے! اور انہوں نے سلفیت کو چھوڑ دیا ہے!، اور انہیں سوائے طعن، جرح وقدح کے کچھ نہیں آتا!، بارک اللہ فیکم، وشفاکم اللہ عزوجل؟
جواب از شیخ ربیع بن ہادی المدخلی حفظہ اللہ :
الحمد لله، والصلاة والسلام على رسول الله، وعلى آله وصحبه ومن اتبع هداه. أما بعد :
اہل سنت والجماعت تو صرف سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علاوہ کسی کے متبعین نہيں ہوتے۔اور وہ بس کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتباع کرتےہيں اپنے عقیدے، منہج، سیاست، اخلاق اور تمام شعبہ ہائے زندگی میں۔ اسی کی اتباع کرتے ہيں اور بدعات ایجاد نہیں کرتے۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سلف صالحین کی اہل بدعت سے تحذیر (خبردار) کرنےکے سبب سے اسی منہج پر گامزن رہتے ہیں۔ اور جو ان کی مخالفت کرتے ہوئے انہیں جامیہ! اور مدخلیہ! کے القابات سے تہمت لگاتاہے وہ گمراہ ہے۔ وہ سنت اور سلفی منہج سے جنگ کرنے والے کے سوا اور کوئی نہیں ہوسکتا۔
پس اپنے بارے میں اللہ تعالی سے ڈرو، اور اس قسم کے فاجر القابات چسپاں کرنے کو ترک کردو! اللہ تعالی سے ڈرو اور ہمیشہ سیدھی ، سچی اور کھری بات کرو:
﴿يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَقُوْلُوْا قَوْلًا سَدِيْدًا،  يُّصْلِحْ لَكُمْ اَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ ۭ  وَمَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيْمًا﴾ (الاحزاب: 70-71)
(اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اللہ سے ڈرو اور بالکل سیدھی بات کہو، وہ تمہارے لیے تمہارے اعمال درست کر دے گا اور تمہارے لیے تمہارے گناہ بخش دے گا اور جو اللہ اور اس کے رسول کی فرماں برداری کرے تو یقیناً اس نے کامیابی حاصل کرلی، بہت بڑی کامیابی)
کیا تم لوگ ان سلفیوں سے محض اس بات کا انتقام لے رہے ہو اور انہیں ان القابات سے نواز رہے ہو کہ وہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ e سے تمسک اختیار کرتے ہیں؟! آخر وہ کونسی بدعات ہے ان کے پاس جس کی بنا پر تم انہیں مدخلیہ اور جامیہ پکار سکو؟! کونسی بدعات ہیں ان کے پاس؟!۔
ہم جانتے ہیں تبلیغی جماعت، اخوان المسلمین اور قطبی لوگ ان کے یہاں اصول وفروع میں بدعات اور گمراہیاں ہیں ! ہم انہیں نصیحت کرتے ہیں اور ان کے سامنے حق بات کی وضاحت کرتے ہیں (بارک اللہ فیکم)۔ جسے اللہ تعالی توفیق دیتا ہے تو وہ حق وصواب کی جانب رجوع کرلیتا ہےاور سلف کے طریقے پر چلنے لگتا ہے۔ اور جسے اللہ تعالی چھوڑ دیتا ہے اور اس کے لیے خیر کا ارادہ نہیں فرماتا تو وہ اپنی طغیانی وظلم میں ہی بڑھتا رہتا ہے۔
وصلى الله على نبينا محمد وعلى آله وصحبه وسلم .
سائل: شیخنا وہ کہتے ہیں کہ ہم سوریا (شام)اور عراق میں مسلمانوں کے قتل عام ہونے سے خوش ہوتے ہیں! اور جہاد کو ہم نے سوریا اور عراق میں تو معطل قرار دے دیا لیکن یمن میں اسی جہاد سے خوش ہیں!؟۔
شیخ: یہ جھوٹ بولتے ہیں اللہ کی قسم! یہ جھوٹ بولتے ہیں اللہ کی قسم! اللہ کی قسم ہے کہ ہم ان سے کئی گنا بڑھ کر روافض (شیعہ) اور باطنیوں (اسماعیلیوں) کی مخالفت کرتے ہيں؛ یہ تو خود روافض کے بھائی بند ہیں! ان کے ساتھ ساتھ رہتے ہیں! اور تمام اہل بدعت کے بھائی بنے رہتے ہیں!۔
جبکہ ہم تمام اہل بدعت کی ضد اور مخالفت میں پیش پیش رہتے ہیں۔ روافض کی ڈٹ کر مخالفت کرتے ہیں اور ان کے آئمہ کی تکفیر بھی کرتے ہیں۔ اور ان کے کفر کو یہودونصاری سے بھی بڑا سمجھتے ہیں۔  لیکن جو لوگ ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوتے ہیں ہم انہیں دیکھتے ہیں کہ وہ اسلام کاجھنڈا بلند نہیں کرتے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
’’مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ‘‘([1])
(جو کوئی اس لیے قتال کرتا ہے تاکہ اللہ کا کلمہ بلند تو صرف وہ فی سبیل اللہ ہے)۔
بارک اللہ فیک۔ یہ لوگ اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے نہیں لڑتے! ہاں البتہ ان کی صفوں میں بہت سے فریب خوردہ مسکین لوگ ہوتے ہیں! لیکن ان کے علمدار لوگ اسلام کے طریقے اور سنت پر نہیں ہوتے! نہ یہ توحید، سنت اور لا الہ الااللہ کا جھنڈا بلند کرنے والے ہیں! بلکہ یہ لوگ تو جمہوریت کا عَلَم بلند کرنے والے ہیں!۔ اور یہ بھرپور طریقے سے مستعد وتیار ہیں کہ اگر بشار الاسد کا خاتمہ ہوا تو یہ روافض اور باطنیوں سے ہاتھ ملا لیں گے!۔
سائل: أحسن الله إليكم شيخنا وبارك الله فيك و…
شیخ: زمین میں فساد برپا کرنے کا سبب خود یہی لوگ ہیں۔ یہی لوگ تو ہیں جنہوں نے مصر اور سوڈان اور ہر جگہ فتنہ اور قتل وغارت کو پھیلا رکھا ہے! ہر جگہ اپنی اس گمراہی کو پھیلا رکھاہے۔ یہی لوگ سبب ہیں سوریا کی مسکین عوام کو دربدر کرنے کا۔ انہوں نے ان پر ظلم کیا ہے۔ انہیں کوئی پرواہ نہیں اس دربدر ہونے اور ان ہلاکتوں کی! لاکھوں لوگ ان کے فتنے اور باطنیوں کے فتنے کے سبب ہلاکت وتباہی کا شکار ہوگئے۔
سائل: جزاكم الله خيراً  اور میں جرمنی میں علامہ تقی الدین ہلالی رحمہ اللہ کی مسجد سے آپ کے بھائیو ں اور بیٹوں کا سلام آپ تک پہنچاتا ہوں ۔
شیخ ربیع: حياكم الله اور ہمارا سلام بھی ان تک پہنچائیں جزاكم الله خيراً۔
سائل: جزاك الله خيراً ۔
(اس ملاقات کی ریکارڈنگ بعد نماز مغرب، بروز منگل، 27 صفر سن 1435ھ بمطابق 3دسمبر2013ع کو تسجیلات البصیرۃ نے کی، ہم آپ کے لیے علم نافع اور عمل صالح کی تمنا کرتے ہیں، اس کلام کی تفریغ خمیس بن ابراہیم المالکی نے ویب سائٹ لیبیا السلفیۃ کے لیے کی)۔

[1] صحیح بخاری 123، صحیح مسلم 1906۔
مزید علماء کرام کے کلام کے لیے مکمل مقالہ پڑھیں ۔ ۔ ۔

http://tawheedekhaalis.com/wp-content/uploads/2016/02/salafiyon_ko_madkhalee_jamee_kehnay_ka_radd.pdf
🔵🎾🎾🔵🎾🎾🔵

🔵🎾🎾🔵🎾🎾🔵

tawheedekhaalis.com:

[Urdu Article] Salafee Manhaj regarding Sticking to the Jama’ah and Obeying the Rulers – Shaykh Muhammad bin Umar Bazmool
سلفی منہج میں جماعت کو لازم پکڑنا اور حکمرانوں کی سماع واطاعت کرنا – شیخ محمد بن عمر بازمول
http://tawheedekhaalis.com/wp-content/uploads/2016/02/salafi_manhaj_luzom_jamat_itaat_hukkam.pdf
شیخ محمد بن عمر بازمول حفطہ اللہ فرماتے ہیں:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکمرانوں کی اطاعت کو ایک عظیم معاملہ قرار دیا۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جہنم کے دروازوں پر دعوت دینے والے داعیوں سے نجات کی سبیل مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امام کو لازم پکڑنے کو قرار دیا۔
 بسر بن عبید الحضرمی سے روایت ہے کہ انہیں ابوادریس الخولانی نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے سیدناحذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا:
’’كَانَ النَّاسُ يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عَنِ الْخَيْرِ وَكُنْتُ أَسْأَلُهُ عَنِ الشَّرِّ مَخَافَةَ أَنْ يُدْرِكَنِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا كُنَّا فِي جَاهِلِيَّةٍ وَشَرٍّ فَجَاءَنَا اللَّهُ بِهَذَا الْخَيْرِ فَهَلْ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ مِنْ شَرٍّ، قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: وَهَلْ بَعْدَ ذَلِكَ الشَّرِّ مِنْ خَيْرٍ؟ قَالَ: نَعَمْ وَفِيهِ دَخَنٌ، قُلْتُ: وَمَا دَخَنُهُ؟، قَالَ: قَوْمٌ يَهْدُونَ بِغَيْرِ هَدْيِي تَعْرِفُ مِنْهُمْ وَتُنْكِرُ، قُلْتُ: فَهَلْ بَعْدَ ذَلِكَ الْخَيْرِ مِنْ شَرٍّ؟ قَالَ: نَعَمْ دُعَاةٌ إِلَى أَبْوَابِ جَهَنَّمَ مَنْ أَجَابَهُمْ إِلَيْهَا قَذَفُوهُ فِيهَا، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ صِفْهُمْ لَنَا، فَقَالَ: هُمْ مِنْ جِلْدَتِنَا وَيَتَكَلَّمُونَ بِأَلْسِنَتِنَا، قُلْتُ: فَمَا تَأْمُرُنِي إِنْ أَدْرَكَنِي ذَلِكَ، قَالَ: تَلْزَمُ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِينَ وَإِمَامَهُمْ، قُلْتُ: فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ جَمَاعَةٌ وَلَا إِمَامٌ؟ قَالَ: فَاعْتَزِلْ تِلْكَ الْفِرَقَ كُلَّهَا وَلَوْ أَنْ تَعَضَّ بِأَصْلِ شَجَرَةٍ حَتَّى يُدْرِكَكَ الْمَوْتُ وَأَنْتَ عَلَى ذَلِكَ‘‘([1])
(لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خیرکی بابت سوال کیا کرتے تھے جبکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شر کے متعلق دریافت کیا کرتا تھا، اس خوف سے کہ کہیں میں اس میں مبتلا نہ ہوجاؤ۔ چناچہ میں نے پوچھا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم جاہلیت اور شر میں تھے  پس اللہ تعالی ہمارے لیے یہ خیر لے آیا ، تو کیا اس خیر کے بعد بھی کوئی شر ہوگا؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ میں نے پوچھا کہ کیا اس شر کے بعد پھر سے خیر ہوگا؟  آپ نے فرمایا: ہاں لیکن اس میں دخن (دھبہ) (دلوں میں میل) بھی ہوگا۔ میں نے پوچھا: اس کا دخن کیا ہوگا؟ فرمایا: ایسی قوم ہوگی جو میرے طریقے کے علاوہ کسی اور طریقے کو اپنا لیں گے، ان کی کچھ باتیں تمہیں بھلی معلوم ہوں گی اور کچھ منکر۔  میں نے کہا کہ کیا اس خیر کے بعد بھی کوئی شر ہوگا؟ فرمایا: ہاں، ایسے داعیان ہوں گے جو جہنم کے دروازوں کی طرف دعوت دیں گےجو ان کی دعوت قبول کرلے گا وہ اسے جہنم واصل کروادیں گے۔ میں نے کہا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے لیے ان کے اوصاف بیان کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ ہماری ہی قوم میں سے ہوں گے اور ہماری ہی زبان بولتے ہوں گے([2])۔ میں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے کیا حکم دیتے ہیں اگر میں انہیں پالوں؟ فرمایا: تم مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امام کو لازم پکڑو۔ میں نے کہا: اگر ان کی کوئی جماعت ہی نہ ہو اور نہ ہی امام؟  فرمایا: تو پھر ان تمام فرقوں سے علیحدہ ہوجانا اگرچہ تجھے درخت کی جڑیں چبا کر ہی گزارا کیوں نہ کرنا پڑے یہاں تک کہ تجھے اسی حال میں موت آجائے)۔
بلکہ اس حدیث کی ایک روایت میں آیا ہے کہ حکمران کی سماع واطاعت کرو اگرچہ وہ تمہارا مال چھین لے اور تمہاری کمر پر کوڑے مارے۔
جناب ابی سلام فرماتے ہیں کہ سیدنا حذیفہ بن یمانرضی اللہ عنہ  نے فرمایا کہ میں نے کہا:
’’يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا كُنَّا بِشَرٍّ فَجَاءَ اللَّهُ بِخَيْرٍ فَنَحْنُ فِيهِ، فَهَلْ مِنْ وَرَاءِ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ؟، قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: هَلْ وَرَاءَ ذَلِكَ الشَّرِّ خَيْرٌ؟، قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: فَهَلْ وَرَاءَ ذَلِكَ الْخَيْرِ شَرٌّ؟، قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: كَيْفَ؟، قَالَ: يَكُونُ بَعْدِي أَئِمَّةٌ لَا يَهْتَدُونَ بِهُدَايَ، وَلَا يَسْتَنُّونَ بِسُنَّتِي، وَسَيَقُومُ فِيهِمْ رِجَالٌ قُلُوبُهُمْ قُلُوبُ الشَّيَاطِينِ فِي جُثْمَانِ إِنْسٍ، قَالَ: قُلْتُ: كَيْفَ أَصْنَعُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ أَدْرَكْتُ ذَلِكَ؟، قَالَ: تَسْمَعُ وَتُطِيعُ لِلْأَمِيرِ، وَإِنْ ضُرِبَ ظَهْرُكَ، وَأُخِذَ مَالُكَ فَاسْمَعْ وَأَطِعْ ‘‘([3])
( یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم شر میں زندگی گزار رہے تھے کہ اللہ تعالی یہ خیر لے آیا اورہم اب اسی میں جی رہے ہیں ، پس کیا اس خیر کے بعد بھی کوئی شر ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں ۔ میں نے کہا: کیا اس شر کے بعد خیر ہوگا؟ فرمایا: ہاں۔ میں پھر کہا کہ: کیا اس خیر کے بعد دوبارہ سے شر ہوگا؟ فرمایا: ہاں۔ میں نے کہا: کیسا ہوگا؟ فرمایا: میرے بعد ایسے آئمہ آئیں گے جو میری ہدایت پر نہیں چلتے ہوں گے اور نہ ہی میری سنت کی پیروی کریں گے، اور عنقریب ان میں ایسے انسان کھڑے ہوں گے جن کے جسم انسانوں کے ہوں گے لیکن دل شیاطین کے دل ہوں گے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اگر میں ایسے حالات پالوں تو کیا کروں؟ فرمایا: اپنے امیر (حکمران) کی بات سننا اور اطاعت کرنا اگرچہ تیری کمر پر کوڑے مارے جائیں اور تیرا مال چھین لیا جائے، تو سننا اور اطاعت کرنا)۔
مزید تفصیل کے لیے مکمل مقالا پڑھیں ۔ ۔ ۔
[1] اخرجہ البخاری فی کتاب المناقب، باب علامات النبوۃ فی الاسلام، حدیث رقم 3606۔
[2] یہاں آپ گمراہی کی طرف دعوت دینے والے داعیان کی صفت پر ذرا ٹھہر کر غور کریں، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے لوگوں کی کثرت کی حالت میں جماعت کو لازم پکڑنے کی دعوت دے رہے ہیں، پس یہی ان لوگوں کے فتنے سے بچنے کی سبیل نجات ہے۔ ناکہ حکمرانوں کی تکفیر کرنا یا ان پر خروج کرنا اورعوام کے دل ان کے خلاف بغض وعدوات سے بھرنا۔
[3] اخرجہ مسلم فی کتاب الامارۃ، باب وجوب ملازمۃ جماعۃ المسلمین عند ظھور الفتن، حدیث رقم 1847۔

🔷♦🔷🔷♦🔷🔷♦♦♦🔷♦♦🔷۔

Tawheedekhaalis.com

Advertisements

Leave a Reply

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s